صفحہ اول / آرٹیکل / چراغ محفل خواجہ جاوید اقبال (سابق چیئر مین بلدیہ باغ)
Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK

چراغ محفل خواجہ جاوید اقبال (سابق چیئر مین بلدیہ باغ)

تحریر۔ پروفیسرمحمد شفیق راجہ.

ایک مشہور دانشور کا کہنا ہے کہ ہم اپنے دوست سے محبت کرتے ہیں اس کے حسن سیرت،صاف گوئی،دیانت،ذہانت،ذوق ادب و تہذیب ہی نہیں بلکہ اس کے حسن صورت،ظرافت،خوش باشی اور صحت کے گرویدہ بھی ہوتے ہیں۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ہماری گرویدگی اس کی شخصیت سے ہوتی ہے جو ہر چند ان تمام محاسن یعنی خوبیوں اور اخلاقی فضائل سے مل کر بنی ہے لیکن پھربھی ان سے ماوراء اور آزاد ہے۔ایک اور دانشور نے اپنے ایک دوست کے تعارف میں کہا ’’ اس سے ملتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ آپ اس کی پوری شخصیت سے مل رہے ہیں ۔اس کا ثبوت یہ ہے وہ آپ کو اپنی زندگی کے تمام ادوار میں بیک ساعت بھرپور زندگی گذارتا ہوا محسوس ہوتا ہے‘‘۔ میں نے ان دونوں اقوال یا بیانات کو سامنے رکھ کر اپنے گرد و پیش نظر کی ۔اپنے دوست، احباب،رشتہ دار ،جان پہچان والوں پر اسے منطبق کرنے کی کوشش کی تو سوائے چیئر مین خواجہ جاوید اقبال کے مجھے ایسی کوئی شخصیت نظر نہیں آئی جس میں ملنے والے کی گرویدگی اور سامنے والے کی شخصیت کا ایسا مجموعی اور سریع الاثر سحر موجود ہو۔ایک میں کیا کہ میری زندگی کے شعوری سالوں کی نصف صدی ان کے ساتھ گزری۔کبھی ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے کبھی ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل،بعض اوقات میری اور اس کی ملاقا ت کو عرصہ گذر جاتامیں ایک طرح کی شرمندگی اور ندامت کے احساس کے ساتھ اس عرصے کو زیادہ طول دے دیتاپھر طبیعت کے مجبور کرنے کے بعد اس سے ملنے جاتا تو وہاں نہ کوئی شکوہ نہ گلہ،نہ شکایت ۔بس ایک اپنائیت ،شفقت اور محبت ۔اس کے گرد اسی طرح ہجوم ۔اپنے ۔اس کے اپنے ،وہ سب لوگ جنھیں وہ جانتا تھا اور جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ۔سب اس کے پاس۔وہ کوئی امیر کبیر یا متمول شخص نہیں تھا۔کثیرالعیال اور محدود وسائل والا ۔درمیانی طبقے کا ایک وسیع الظرف شخص اور بس۔اس کے دستر خوان پر روزانہ دو چار آدمی مہمان ہوتے ،اس کے ٹیلی فون کا بل ہر ماہ ہزاروں میں ہوتا ۔یقین مانئے دوسروں کی مدد کے لیے فون کالز کا بل تیس چالیس ہزار ہر ماہ اس کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتا ۔اگر میں محض یہ کہوں کہ اس کے ماتھے پر کبھی شکن نہ پڑی تو جھوٹ ہو گا۔بہت دقت سے ادا کی جانے والی رقم سے اس کے چہرے پر جو سمندر کا سا سکون اور خوشی کی لہریں پھوٹتی تھی ساری کائنات کی ساری دولت خرچ کر کے بھی وہ اطمنان نصیب ہو جائے تو آخرت کی بخشش کے لیے کافی ہے۔خواجہ جاوید باغ والوں کے(حقیقی معنوں میں) دلوں کی دھڑکن تھا۔تین بار مسلسل اور بلا مقابلہ چیئر مین بلدیہ منتخب ہونا صرف کہنے کی حد تک آسان لگتا ہے ہزاروں انتخابی اشتہاروں پر آپ نے لکھا دیکھا ہوگا ’’ عوام کے پرزور اصرار پر ‘‘ اس صریح جھوٹ کے برعکس چئیرمین کو ہر بار لوگوں نے زبردستی اس کو ممبر بنایا اور زبردستی چیئر مین بھی ۔12سال تک وہ بلا شرکت غیر پورے باغ والوں کی سلطنت کا تاجدار رہا۔اس کے سر سے سلطانی کا تاج اس وقت بھی نہیں ہٹا جب انتخابات سے دستبردار ہوکر گدی پر بیٹھ گیا۔حتی کے اس کے بعد بھی اس کے دم واپسیں تک عوام کی اس سے محبت برقرار رہی۔اور محبت کا یہ تاج اسی کے سر پر رہا۔اور آج جب وہ منوں مٹی کے نیچے ہے اس کا یہ اعزاز اسی طرح ہے ۔اس کی موت بھی اس کے اور عام آدمی کے درمیان رشتے کی زنجیر نہیں توڑ سکی۔

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK-with-Sardar-Ishtiaqمیں اور وہ ایک ڈیڑھ سال کے فرق سے ہم عمر ہیں ۔ہمارے کنبوں کے درمیان تعلقات دو صدیوں پر محیط ہیں ۔ہمارے والدین اور ہمارے اجداد باہم دگر تھے۔ہمارا تعلق ایک ہی محلے سے ہے ،ہم ایک ہی سکول میں پڑھے،ایک ہی کالج میں زیر تعلیم رہے،ایک ہی گراونڈ میں کھیلتے رہے ،ایک ہی کلب کی طرف سے کھیلے۔میں سنگل باڈی میرا وزن 60کلو اور وہ ٹرپل باڈی کا، وزن150کلو سے زیادہ تھا۔شاید اسی لیے وہ گراونڈ سے جلد ہی لا تعلق ہو گیا ۔تاہم بیڈ منٹن کھیلتا رہا۔ادھر میرے تیس پینتیس سال کھیل کی نذر ہو گئے۔اس نے ایف اے کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کیا،شادی کی ۔ٹھیکیدار بن کر اپنے والد گرامی خواجہ غلام اکبر مرحوم کی گدی سنبھالی۔ میں سرکاری ملازمت میں چلا گیا۔ہمارے درمیان دوستی تھی،بھائی چارہ تھا۔اس سے ملاقات ہوتی تو باوجود تقریباً ہم عمر ہونے کے مجھے اس کی طرف سے پد رانہ شفقت کا احساس ہوتا ۔ہمارا بچپن اور لڑکپن ساتھ گذرا۔ہمارے بچپن کے دیگر ساتھیوں میں اس کا چھوٹا بھائی مرحوم خواجہ شفیق عرف کالو ،بشارت نیئر ڈار،ADCملک نعیم طارق ،عباسپور کے سردار آفتاب اور سردار امتیاز کے سمدھی سردار اصغر مرحوم۔ ہم راجہ محمد حسین مرحوم(میرے چچا ذاد بھائی،مربی،محسن) کے زیر سایہ اکٹھے پڑتے رہے ۔پھر ہمارا یہ قافلہ ہماری عملی زندگی ،مصروفیات ،ملازمتوں وغیرہ کی وجہ سے جمع ہوتا رہا ،علیحدہ ہوتا رہا اور پھر بکھر گیا۔لیکن میں اور چیئر مین ایک دوسرے سے بدستورملتے رہے۔

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK-with-Qamar-uz-Zaman

لوگوں نے اپنے بزرگوں،مشائخ،اساتذہ اور بڑوں کے پاؤں دھو کر پینے کا محاورہ سنا ہے ۔اردو زبان میں یہ محاورہ حد درجہ عقیدت و محبت کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن شاہد یہ نہ سنا اور پڑھا ہو کہ کوئی بیٹا فی الواقع اپنی والدہ کے پاؤں روزانہ اپنے ہاتھوں سے دھوتا ہے۔اور وہ استعمال شدہ پانی پی جاتا ہے۔اطاعت گذار بیٹے کی ماں سے اس درجہ عقیدت و احترام اور محبت ایک مثال ہے۔اس کے والد کا جب انتقال ہوا اس کا چھوٹا بھائی زیشان اکبر بہت ہی چھوٹا اور ماں کی گود میں تھا۔اسے والد کی شکل تک یاد نہیں ۔چئیرمین نے اپنے بھائی کی والدبن کر اس طرح پرورش کی کہ زیشان آج تک اپنے بھائی کو ’’ ابو ‘‘ کہتا ہے۔ ہے کوئی ایسا بھائی ؟ ۔ آج کے اس دور میں جب بھائی اپنے سگے بھائیوں کی جائیدادیں ہڑپنے کے دن رات منصوبے بناتے ہیں۔ان پر طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں ۔اس وحید العصر شخص نے وہ کر دکھایا جس کی مثالیں کہیں قرن وسطی میں مل سکیں تو غنیمت ہے۔اسے اپنے والد سے ،بڑے بھائیوں سے،اساتذہ سے،حضرت پیر جنید شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے،حضرت مولانا ثناء اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے اور اپنی والدہ محترمہ سے اتنی محبت رہی کہ آج اس کا اظہار مبالغہ لگتا ہے۔

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK-with-Mir-Akbar-Mehr-un-Nisa

1950سے2011تک اس زندگی گذارنے والے شخص کی عمر اگر ہجری کیلنڈر کے حساب سے دیکھیں تو ’’سن شریف ‘‘یعنی 63سال کا خوبصورت،چمکتا ہوا،جگمگاتا ہوا ہندسہ نظر آتا ہے۔جس کی تمنا صحابہؓ ،مشائخ،اسلامی مفکر اور دانشور کرتے رہے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کی تمنا پوری ہوئی جنھوں نے اپنے سفر آخرت کی صبح اپنی عمر کا حساب لگوایا اور وصیت لکھوانی شروع کی اس دن وہ مالک حقیقی سے جا ملے۔علامہ اقبال ؒ اپنی وفات سے چند روز پہلے سن شریف کی تمنا کر چکے تھے ۔اپنی وفات والے دن ان کی آنکھیں دروازے کی جانب فرشتوں کی منتظر تھیں تب زبان پر یہ قطعہ جاری ہو گیا۔

سرور رفتہ باز آید کہ ناید نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سر آمد روزگار ہے ایں فقیرے وگر دانائے راز آید کہ ناید

اللہ پاک نے چیئر مین جاوید کو بھی اسی نعمت سے سرفراز کیا ۔یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے۔اس کی پوری زندگی لوگوں کی خدمت کرتے گذری حتی کہ وہ باتھ روم میں بھی اپنا ٹیلی فون ساتھ رکھتا ۔اس نے کسی شخص کو اپنے دروازے سے مایوس نہیں لوٹایا ۔اس کے گھر غریب،مفلس،ناداروں،بیواوں اور دلوالوں کا جمگھٹ رہتا تھا۔بعض اوقات اس کا گھر ایک خانقاہ لگتا تھا ۔اندھے اور اپاہج فقیروں کو وہ اپنے ہاتھ سے اپنے گھر کھانا کھلاتا ۔اور اس نے کبھی کراہت محسوس نہیں کی،نہ کبھی برا منایا۔بعض اوقات مجھے لگتا تھا کہ یہ شخص ایک ہزار سال بعد پیدا ہوا ہے اس کو ہزار سال پہلے پیدا ہونا چاہیئے تھا۔اس زمانے کا خلوص ،محبت ،اس درجے کی عقیدت و تعلق اس زمانے میں کہاں۔

خاکساروں سے خاکساری تھی
سر بلندوں سے انکسار نہ تھا

چیئر مین جاوید اس شعر کی عملی تصویر تھا ۔وہ غریبوں ،ناداروں ،سوالیوں ،مظلوموں کے آگے بجھ بجھ جاتے تھے۔میں نے کبھی انہیں کسی مسکین کو کوئی کلمہ سخت کہتے نہیں سنا ۔ اللہ پاک کا حکم ہے ’’قول معروف اور مغفرت اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا دینے والا طرز عمل یا جملے کہیں جائیں‘‘ ۔چیئر مین اس حکم کا عملی پیکر تھے۔اس کے بر عکس سربلندوں اور عمائدین کے سامنے انھوں نے کبھی انکسار سے کام نہیں۔اپنی بات ہمیشہ جرأت رندانہ اور کمال اعتماد سے کی ۔بڑے سے بڑے عہدیداران، خواہ وہ انتظامی آفیسرز ہوں یا سیاسی منصب دار انھوں نے کبھی دب کر بات نہیں کی ۔غیر ملکیوں سے بیرون یا اندرون ممالک ان کی زبان سے نکلے ہوئے فقرے جو اکثر اوقات چیئر مین صاحب کی اپنی اختراع ہوتے تھے اتنی سلاست ،روانی اور اتنے اعتماد سے ادا ہوتے تھے بعض اوقات ہمیں اپنی معلومات پر شبہ ہو جاتا تھا کہ ہمارے ذہنوں میں اس موقع کے لیے جو صحیح الفاظ محفوظ تھے وہ صحیح ہیں یا چیئرمین صاحب کی زبان سے اداء ہونے والے الفاظ درست تر ہیں ۔یہ کیفیت بہت عرصہ بعد کھلتی اور بہت عرصے تک لطف اندوزی کا سبب رہتی۔چیئر مین صاحب انگلستان متعدد بار گئے ۔انھیں کبھی مترجم کی ضرورت نہیں پڑی ۔وہ کوئی انگریزی دان نہیں تھے لیکن انھیں اپنا مانی الضمیر اداکرنے کے لیے انھیں کسی سہارے کی ضرورت نہ تھی۔دوسری اور اجنبی زبان کی ادائیگی کے لیے جس اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے وہ قدرت نے ان کے کے خمیر میں ہی ان کا کلبوت بناتے وقت گوند ھ رکھا تھا۔انھوں نے حرمین شریفین کی زیارت کی ،حج اداکئے ،عمرے کئے۔،وہاں تو مسئلہ ہی دوسرا تھا ۔وہاں چیئر مین صاحب کا دل تھا اوراس کا خالق۔۔ ،چیئر مین صاحب کی آنسووں سے بھری آنکھیں تھیں اور اللہ کے محبوب ﷺ کا قرب۔کاش کہ میں اس وقت ان کے پاس ہوتا تو یہ سرور انگیز کیفیات کا بچشم خود نظارہ کرتا ۔لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے چیئر مین صاحب نے لازماً اپنے جان و دل روضہ رسولﷺ کے سامنے حضور ﷺ کے قدموں میں رکھ دیئے ہوں گے۔اور اس کی حساس اانکھوں سے بہنے والے آنسووں نے سارے ماحول کو متاثر کیا ہو گا۔اور حضورﷺ نے اپنے شیدا کی پر خلوص محبت ،والہانہ پن کو ضرور قبول کیا ہو گا۔کاش میں بھی حضرت امیر خسرو کی طرح کہہ سکتا۔

محمد ﷺ شمع محفل بود جائے کہ من بودم
ہر کجا بود چشمہٗ شیریں مردم و مرغ و مور گرد آئیند

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK-with-Rasheed-Chughtai-Muslim-Conferenceچیئرمین جاوید حقیقت میں ہر محفل کی جان تھے ۔وہ عام مہمان ہوں یا خصوصی یا میزبان ہوں اکثر دیکھنے میں آتا تھا کہ کوئی تقریب کسی اور بڑی شخصیت کے لیے منعقد کی گئی یہ باتممکن نہیں نہیں تھی کہ باغ میں کوئی بھی تقریب ہو اور چیئر مین صاحب اس میں موجود نہ ہوں ۔غرض کوئی بھی تقریب ہوئی چیئر مین صاحب کے آنے سے پہلے پروٹو کول زدہ،سنجیدہ ہوتا،خاموش خاموش سی فضاچھائی رہتی ۔ایسے عالم میں مجھے اور مجھ جیسیوں کو بعض اوقات کچھ گٹھن کا احساس ہوتا ۔اچانک دور سے چیئر مین صاحب کی آواز آتی ۔اچھا یہ بات سب کو معلوم تھی کہ چیئر مین خاموشی سے ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے تھے ۔وہ چلتے جاتے اور بلند آواز میں باتیں کرتے جاتے تھے ۔لہذا ان کی موجودگی دور ہی سے محسوس ہو جاتی تھی۔جب چیئرمین کی آواز کانوں میں پڑتی تو گویا بہار کا اعلان ہو جاتا،خزاں زدہ مرجھائے ہوئے چہروں پر امید اور خوشی کے رنگ آ جاتے۔وہ مرا مرا سا مرجھایا ہوا ماحول،پت جھڑ کا ماحول ایکدم تبدیل ہو جاتا۔ان کی آمد سے محفل کشت زار زعفران بن جاتی۔شرکائے محفل مہمان خصوصی کو اور محفل کے دیگر تقاضوں کو بھول جاتے اور محفل میں چیئر مین جاوید واقعی ایسا لگتا تھا جیسے چشمہ شیریں اور پھر ساری محفل ان کی ہی محفل ہو جاتی۔تمام شرکائے محفل کی سماعتیں چیئر مین صاحب کی آواز کی سمت لگ جاتیں۔ان کی گنگا جمنی زبان میں گفتگو،ان کے مزاحیہ جملے،پھبتیاں،جگت بازی سے محفل میں ماتمی اور سوگ والی کیفیت کی جگہ قہقے،ہنسی اور مسکراہٹیں آ جاتیں۔وہ محفل میں کیا آتے محفل میں جان آ جاتی۔اب بھی محفلیں ہوتی ہیں لیکن مولانا رومؒ کی بنسری والی تشبہہ کے مطابق۔اب بنسری کے پیچھے پھونک مارنے والانہیں رہا۔لہذا بنسری نے دلکش نغمے بکھیرنا بند کر دیئے ہیں۔اب وہ بنسری بنسری نہیں رہی محض بانس کا ٹکڑا ہے ۔بانس کا ایک بے مصرف ٹکڑا۔۔۔ اب محفلیں،تقریبات بے جانُ مردوں کی طرح ہیں ،ان کے اجزائے ترکیبی ،اعضائے جسم مکمل موجود لیکن روح سے خالی۔ روح محفل سے محروم۔ اب کہاں لوگ اس طبیعت کے۔

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK

چیئر مین جاوید کی شخصیت ہمارے علاقے کے لیے خدا وند قدوس کی ایک نعمت تھی۔اس کی مجلسی،معاشرتی اور سماجی زندگی ہمارے سامنے گذری ،بے داغ جوانی چھوٹی سی عمر مین وہ شخص اپنی عمر سے بہت بڑا ہو گیا تھا۔ہم بوڑھے ہو چکے ہیں اور ہماری زندگیوں سے لڑکپن کی بو آ رہی ہے ۔جب وہ لڑکا تھا تو اس کے طرز عمل اور انداز سے سنجیدگی اور متانت ٹپکتی تھی۔اس نے ایسے ایسے کام کئے،ایسے ایسے مقدمات کے فیصلے اس خوبصورتی اور اتنی سمجھداری سے کئے کہ بے اختیار زبانوں پر اس کے لیے دعائیہ اور استحسان و شکر کے کلمات آ جاتے ہیں۔دو مشہور مقدمات میں مجھے چیئر مین کی اصابت رائے تسلیم کرنا پڑی۔ایک باغ یونین کونسل کی چیئر مین شپ اور دوسرا دیگوار قتل کیس ۔ان مقدمات کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔میں نے باغ والے مقدمے میں چیئر مین کا تحریری فیصلہ دیکھا ہے اور لفظ لفظ کر کے پڑھا ہے ۔میں سوچتا تھا کہ یہ شخص تحریر میں اوسط درجے کا آدمی ہے لیکن دس بارہ صفحات پر محیط اس فیصلے کا کوئی لفظ فالتو نہیں لگا۔کوئی دلیل بودی نظر نہیں آئی۔اسی طرح صرف تین دن لگے چیئر مین صاحب کو اور دیگوار میں قاتل اور مقتول کے خاندانوں مین صلح کرا کر پرچہ قتل واپس دلوا کر چیئرمین صاحب باغ واپس پہنچ گئے۔ان کے تعلقات اتنی جہات میں ہیں کہ شائد گنتی کم پڑھ جائے ۔باغ کے خطے میں فوج،سول انتظامیہ اور عوام کو قریب تر لانے کا سہرا اسی کے سر ہے اس حوالے سے اس پر اتہام اور بہتانوں کی بوچھاڑ یں بھی ہوئیں۔لیکن وہ اپنے محاذ پر ڈٹا رہا۔فوج کے آفیسرز کے ساتھ اس کے ذاتی مراسم اتنے قوی اور مضبوط تھے کہ ان کے خاندانوں میں وہ ایک محترم فرد کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔حتی کہ بعض کنبوں میں رشتے،شادیوں میں چیئرمین کی رائے کو حتمی سمجھا جاتا رہا۔جنرل افتخار علی خان مرحوم سابق وفاقی سیکرٹری ڈیفنس جو اس وقت وفاقی قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے بڑے بھائی تھے چیئر مین کے بھائیوں جیسے دوست تھے۔ان کے والد گرامی نے چیئر مین کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔جنرل سید عبد الاحد نجمی جو کبھی MDSباغ میں میجر تھے سرجن جنرل پاکستان ریٹائر ہوئے ان کے گھر واقع ملتان میں چیئر مین کی حیثیت اسی گھر کے ایک بڑے کی سی تھی۔ ادھر حالت یہ ہے کہ۔ایک ریٹائرد جنرل کا ایک منہ چڑھا آفیسر پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک سیاسی جماعت کے قائدین کے لیے مصیبت بنا اور اپنے ہی تعلقات کی بنیاد پر وہ ایک مرکزی سیاسی عہدے پر عیش کر رہا ہے ۔جس زمانے میں ایک جنرل جس کے ہاتھ میں آزاد کشمیر حکومت کی لگام تھی اور اس کا پی اے وزیر اعظم آزاد کشمیر سے پروٹو کول لیتا تھا اور وہ جنرل چیئرمین کے نیاز مندوں میں تھا ۔اگر چیئر مین ان تمام ادوار میں ذرا سی بھی کوشش کرتا تو کیا وہ اپنے لیے کوئی بہت بڑا سیاسی عہدہ حاصل نہیں کر سکتا تھا؟لیکن خود غرضی تو اس کے پاس سے ہوکر نہیں گذری۔لاری اڈہ اس نے باغ شہر سے باہر منتقل کیا اور بلدیہ کے اثاثوں میں اضافہ کیا ۔ہر کسی نے حسب توفیق اس بہتی گنگا میں ہاتھ مارے لیکن چیئر مین جاوید یا اس کے کنبے کے نام ایک انچ زمین نہیں ہے ۔ایسے کس طرح ہوا ؟ وہ شخص جو والدین کا اتنا خدمت گذار ہو ،وہ جو پیر جنید شاہؒ کی نظروں کے سامنے موؤب کھڑا رہنے کو زندگی بھر اور آخرت کے لیے اعزاز سمجھے ،جو مولانا ثناء اللہ ؒ کا حواری اور خادم شمار ہونے کو بڑا عہدہ سمجھے خدائے بزرگ و برتر کے ہاں اس کا رتبہ بلند ہو جاتا ہو گا ۔اس کا دامن چھینا جھپٹی اور خود غرضی،لالچ ، ہوس مال وجاہ سے آلودہ ہو۔ فطرت بھلا کب اسے پسند کرتی؟۔سو چیئر مین صاحب کا دامن اس طرح کی ہر آلائش سے پاک رہا ۔یہ صرف بزرگوں کی نگاہ ،فیضان نظر اور والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ایک بات البتہ میں کہنا چاہتاہوں ایک الزام ہے جو مجھے اس پر لگانا ہے۔اس نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیں اپنے ہاتھوں سے دفن کرئے گا لیکن وہ خود چلا گیا ،یہ وعدہ نبھانے سے پہلے ہی رخصت ہو گیا۔شاہد اسے موت اگر موقع عطا کرتی تو وہ اپنا وعدہ بھی نبھا لیتا لیکن موت سے کس کو رستگاری ہے۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھو کہ اے لئم
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

چیئر مین کی اکیلی ذات میں۔ اس پانچ فٹ آٹھ انچ لمبے اور اتنی ہی چوڑائی اور موٹائی کے بت میں۔ پتہ نہیں کتنے شعبوں کی مہارت کے CHIP لگے ہوئے تھے۔میں نے دیکھا کہ معروف ،مستند میڈیکل سپیشلسٹ ،یورالوجی،کاارڈیالوجی کے سپیشلسٹ اس کی رائے پر اعتماد کرتے تھے ۔ڈاکٹرز اس کی تجویز کردہ دوائیاں استعمال کرتے میں نے خود دیکھے ہیں۔وہ بہت اچھا ٹاؤن پلانر تھا۔نیسپاک کے انجینئرز کو اس نے جو بریفنگ دی اور جو جو مشورے دیئے وہ خود حیران تھے ۔اتنے پسماندہ علاقے میں بیٹھا ہوا ایک شخص جو اپنے وزن اور بیماری کی وجہ سے کھڑا تک نہیں ہو سکتا اتنا آئیڈیل ٹاؤن پلان کیسے دے سکتا ہے؟۔اس نے لاری اڈہ اس وقت شہر سے باہر منتقل کیا جب پورے آزاد کشمیر میں تمام لاری اڈے شہروں قصبوں کے مصروف ترین علاقوں میں قائم تھے۔اس نے باغ شہر کو پہلا سیوریج سسٹم بنا کر دیا ۔ شہر کی گلیاں بازار پختہ کروائے ۔ واٹر سپلائی روڈ بنوائی ۔ اس کے جانے کے بعد کسی کو ایک اینٹ فالتو لگوانے کی توفیق نہیں ہوئی۔

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK-with-Shah-Ghulam-Qadir

اس میں برداشت کا مادہ بلا کا تھا ۔ہم ذرا ذرا سی بات پر سیخ پاہو جاتے تو ہمیں مختلف طریقوں سے سمجھا بجھا کر ،جھڑکیاں دے کر ٹھنڈا کر دیتا۔ایک دفعہ بلدیاتی انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کروانے کے بعد کچھ پیچ پڑے۔اس گورکھ دھندے کے پیچھے ایک آدمی کا عکس نظر آیا تو وہ مجھے ،مرحوم مشتاق ہمدانی اور بشارت ڈار کو ساتھ لے کر اس شخص کے برادر نسبتی کے ہاں چلا گیا وہیں متعلقہ شخص کو بلایا گیا اس شخص نے آتے ہی چیئر مین سے تو تکار شروع کر دی ۔ہم تینوں کی حالت دیدنی تھی ،ہمارے چہرے غصے سے تپ رہے تھے لیکن چیئر مین ٹھنڈا ٹھار۔اس نے ہمارے رد عمل پر بھی روک لگا دی ہم زبان سے کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن چیئر مین نے ہمیں ڈانٹ کر کہا کہ وہ میرے اس کے ساتھ ہمکلام ہے تم لوگ چپ رہو۔سو ہم جبراً خاموش رہے 15منٹ کی اس محفل میں چیئر مین نے متذکرہ شخص کو کچھ نہیں کہا بالآخر وہ خود خاموش ہوا ۔اس نے خود اپنے رویے کی معافی مانگی اور اس کے فوراً بعد اپنی بنی ہوئی سازش کے سارے پیچ کھول دیئے۔آپ یقین کریں گے کہ چیئر مین نے ایک دفعہ بھی اس کو ایسا کرنے کے لیے نہیں کہا۔

ایک دفعہ وہ ہماری ایک ادبی تنظیم کے مشاعرے میں پہنچ گئے ۔میں نے انھیں دیکھا اور پھر بڑھ بڑھ کر ہر شعر پر داد دیتے ہوئے دیکھا تو حیران بھی ہوا اور بہت خوش بھی۔ اچانک انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور ہمارے مہمان خصوصی جو پاکستان کے انتہائی اعلیٰ شعراء میں سے ایک تھے ان کے بارے میں کہا کہ کہ شاعر اچھا ہے مگر شاعر لگتا نہیں ۔یہ کوئی استاد طبلہ نویس تو نہیں ہے۔اچھا ۔طبلہ نویس ، قلچہ نویس ، کپی نویس وغیرہ یہ سارے الفاظ چیئر مین کے خود ساختہ تھے۔مشاعرہ ختم ہونے کے بعد جب ہم ان میر مشاعرہ سمیت ڈائنگ ٹیبل پر پہنچے تو ابھی کھانے میں تھوڑی دیر تھی اچانک چیئر مین نے مجھے پھر متوجہ کیا ۔ان کے اشارہ کرنے پر میں نے میر مشاعرہ کی جانب دیکھا تو وہ ٹیبل پر طبلہ نویسی میں مصروف تھے۔

گذاری ہیں جو ان کے ساتھ گھڑیاں
انہی کی یاد میری زندگی ہے

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کوئی متنفس اس وقت تک مر نہیں سکتا جب تک وہ اپنے حصے کا رزق ختم نہ کر لے۔خواجہ جاوید نے اپنی پوری عمر کا اچھا اچھا کھانا اپنی خوش خورانی اور خوش خوراکی کے سبب پہلے ہی ختم کر لیا تھا ۔چھ دھائیوں کا کوٹہ انہوں نے چار دھائیوں میں ہضم کیا ۔بقیہ بیس اکیس برس انہوں نے بہت کم خوراک استعمال کی۔اس دوران انہوں نے خوراک کا کام ادوایات سے لیا ۔وہ جوانی ہی میں ذیابیطس کا شکار ہو گئے تھے ۔واہ رے چیئر مین کا حوصلہ و ہمت اس نے بیماری کو خود پر سوار نہیں کیا بلکہ ساری حیاتی وہ بیماری پر سوار رہے۔سنا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیاکہ فلاں فلاں دو لوگوں کی روح قبض کرو ان میں سے ایک شخص آخری وقت پانی مانگے کا اس کو پانی فراہم نہ کرنا اور دوسرا تلی ہوئی

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK-Journalists

مچھلی کی خواہش کرے گا اسے تلی ہوئی مچھلی دینا۔فرشتہ حیران و پریشان لیکن تاب سوال کہاں? فوراً اس نے حکم کی تعمیل کی ۔پانی والے شخص کو قریب ہی پانی کا مٹکا تھا فرشتے نے سارا پانی گرا دیا اور اس شخص کی روح قبض کر لی۔ دوسرے کو موت سے پہلے تلی ہوئی مچھلی فراہم کی گئی بعد از تعمیل فرشتہ بارگاہ الہٰی میں حاضر ہوا ۔عرض کی باری تعالی ساری زندگی تیری عبادت کرنے والا ،تیری مان کر چلنے والا پیاسا مار دیا گیا ۔اور ساری زندگی تیری نافرمانی کرنے والا اور من مانی کرنے والا تلی ہوئی مچھلی سے سرفراز ہوا ۔اس میں کیا مصلحت ہے ۔اللہ نے ارشاد کیا ’’میرے فرمانبردار بندے سے بہ تقاضائے بشریت کچھ غلطیاں سر زد ہوئی تھیں اسے پیاس کی حالت میں موت دے کر ہم نے اس کی ساری خطائیں معاف کر دیں ۔ اب وہ ہمارا محبوب بندہ ہے ۔گناہوں سے پاک۔اور دوسرا شخص ساری زندگی اپنی خواہشات کا تابع رہا ۔اس نے اپنی مرضی کی۔لوگوں کو تنگ کیا اور ننگ مخلوق ٹھہرا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ اسے یہ کہنے کا موقع ملے کہ اس نے ساری زندگی کے آخری لمحات میں کوئی خواہش کی اور پوری نہ ہوئی۔اس نے دنیاوی زندگی اپنی مرضی سے گذاری اب آخرت میں اس کے لیے سوائے جہنم کے کچھ نہیں‘‘۔ چیئر مین کی زندگی کے بیس بائیس برس مرض میں اور آخری پانچ چھ برس شدید تکلیف میں گذرے ۔میرا ایمان ہے کہ اس سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی رحمت خدا وندی نے انھیں معاف کرنے ہی کے لیے اس پر آزار کے یہ در کھولے ہوں گے۔اس کی تکلیف کو دیکھ کر رحمت خدا وندی ضرور جوش میں آئی ہو گی۔اور اس کے سارے گناہ معاف ہوں گے۔

چیئر مین بڑا آدمی تھا اور بڑے آدمی کا دنیا سے اٹھ جانا سارے متعلقین اور کسی کنبے قبیلے، قوم و ملت کے لیے قومی و اجتماعی المیے سے کم نہیں۔۔ہمیں قحط الرجال کا سامنا ہے۔بڑے لوگ آہستہ آہستہ ہم سے اٹھ رہے ہیں ،انجمن خالی ہو رہی ہے ،ان کی جگہ پر کرنے کے لیے آس پاس برے لوگوں کی بھرمار ہے ۔اپنی خواہشات کے اسیر ،ہوس زدگی کا شکار ھشرات الارض۔ اور نہ جانے کیا کیا بیماریاں ہمارے معاشرے میں در آئی ہیں۔یہ برے لوگ جو خود کو بڑے لوگ کہلاتے ہیں ان بیماریوں کے وائرس ساتھ لیے گھوم رہے ہیں ۔ سارے ماحول کو اپنے اپنے وائرس سے پراگندہ کر رہے ہیں۔اب یہاں بیماریوں کا ہجوم ہے اور تیمار دار یا طبیب کوئی نہیں ۔مختار مسعود نے لکھا اور کیا خوب لکھا (رزق کے ) قحط میں موت ارزاں اور قحط الرجال میں زندگی ارزاں ہوتی ہے۔مرگ انبوہ کا جشن ہو تو قحط اور حیات بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال ایک عالم موت کی زحمت کا اور دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا ایک عملی حشر کا اور دوسرا حشرات الارض کا ۔زندگی کے تعاقب میں رہنے والے(چیئر مین کی طرح پڑے لوگ) قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں اور ہم۔۔۔۔۔۔۔؟

Chairman-Khawaja-Javed-Iqbal-Bagh-AJK-Abdul-Rasheed-Turrabi

ہم چیئر مین کو ہم سے بچھڑے ہوئے7برس بیت گے۔ہم چیئر مین کو یاد کر کے اس لیے آہیں نہیں بھرتے کہ ایک بھائی،ایک دوست،ایک مخلص ،ہمدرد شخص دنیا سے اٹھ گیا ۔ہم اپنی اس انجمن کے بے چراغ ہونے کا ماتم کرتے ہیں کہ اپنی ظرافت،خوش طبعی۔اپنی سنجیدگی و متانت سے اس انجمن کا چراغ بننے والا نہ رہا ۔اب نہ چراغ ہے اور نہ چراغ جلانے والا۔اور اگر کوئی چراغ جلائے بھی تو کیسے کہ چراغ کے اندر جلنے والا ایندھن جو محبت ،عقیدت مشائخ و علماء اور والدین کی دعاؤں کی وجہ سے نصیب ہو تا ہے وہی نہیں۔اللہ ہمارے حال پر رحم کرئے اور ہمیں سیدھی راہ دکھائے ۔اور دعا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر چیئر مین جاوید کے مراتب میں اضافہ فرمائے اور انھیں شفاعت ،ساقی کوثر و تسنیم ﷺ کے دست مبارک سے آب کو ثر اور دیدار الہی کی نعمت عطا فرمائے اور ان کی والدہ محترمہ ،بچوں،بچیوں،بھائیوں،عزیزوں،رشتہ داروں اور ہم سب کو صبر جمیل اور ہمیں بطور خاص چیئر مین صاحب کا نعم البدل عطاء فرمائے ۔اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کرم سے امید ہیکہ باغ کی یہ انجمن زیادہ دیر تک بے چراغ نہیں رہے گی۔ آمین ثم آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے